"آپ یا تو ایک ہیرو کی حیثیت سے مر جاتے ہیں، یا اتنی طویل زندگی پاتے ہیں کہ خود کو ولن بنتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں۔"
کرسٹوفر نولن کی مشہور فلم دی ڈارک نائٹ کا یہ معروف مکالمہ کسی نہ کسی انداز میں دریشیم سلسلۂ فلم پر بھی صادق آتا ہے - اور ایک حد تک اس کے ہدایت کار جیتو جوزف کے فلمی رویّے پر بھی۔
دریشیم 3 (ملیالم) میں کئی خامیاں ہونے کے باوجود مجھے اس فلم سے جو چیز سب سے زیادہ وابستہ رکھتی ہے، وہ جارج کُٹی کے کردار کا نہایت باریک اور تہہ دار مطالعہ ہے۔ تین فلموں کے اس سفر میں اس کردار نے جس ڈرامائی انداز میں اپنی صورت بدلی ہے، وہ غیر معمولی ہے۔
2014 میں جب ہماری پہلی ملاقات جارج کُٹی سے ہوئی تھی تو وہ ایک عام سا آدمی تھا، جو اپنے خاندان کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ ہوکر ہمارے سامنے ایک ہیرو کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ خاندان کے تحفظ کا یہی جذبہ ایک جنون میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ اپنے اہلِ خانہ کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کی مسلسل جدوجہد نے بالآخر اسے ایک ایسے شخص میں بدل دیا جو انہی لوگوں کو اذیت پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں بچانے کے لیے اس نے یہ سارا سفر شروع کیا تھا۔
جارج کُٹی کے کردار کا یہی پہلو اس کے سفر کو اس قدر دلچسپ اور پُرکشش بناتا ہے۔ بالآخر اسے خود بھی احساس ہوجاتا ہے کہ وہ کیا سے کیا بن چکا ہے۔ چنانچہ جیل جانے کا اس کا فیصلہ محض اپنے کیے کی قانونی سزا قبول کرنا نہیں، بلکہ ایک طرح کی خود تعزیری بھی ہے۔ وہ صرف اپنے جرم کی قیمت ادا نہیں کررہا؛ دراصل وہ خود کو اس انسان میں تبدیل ہوجانے کی سزا بھی دے رہا ہے جس کا شاید کبھی اس نے تصور تک نہ کیا تھا۔
اس تبدیلی کو کہانی میں جس باریک بینی سے لکھا گیا اور موہن لال نے جس غیر معمولی قوت سے پردۂ سیمیں پر زندہ کیا، اس نے جارج کُٹی کو میرے نزدیک صرف ملیالم سنیما ہی نہیں بلکہ ہندوستانی سنیما کے ان چند کرداروں میں شامل کردیا ہے جن کا ارتقا دیکھنا اپنے آپ میں ایک حیرت انگیز تجربہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی حد تک یہی کچھ دریشیم کے ہدایت کار جیتو جوزف کے ساتھ بھی ہوا۔
وہ جارج کُٹی کے کردار میں اس قدر گہرے اتر گئے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آس پاس موجود دوسرے کردار اور واقعات کی پوری زنجیر ان کی نگاہ سے اوجھل ہونے لگی۔ دریشیم 3 میں جارج کُٹی گویا فلم کے اندر ایک الگ فلم بن جاتا ہے، جب کہ باقی کرداروں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی شخصیت سازی، کرداروں کا ارتقا، بلکہ بعض مواقع پر ان کے افعال کی منطقی پیش رفت بھی تشنہ محسوس ہوتی ہے۔
یہی کمزوری بالآخر دریشیم 3 کو اس بلندی تک پہنچنے سے روک دیتی ہے جہاں تک پہنچنے کی اس میں پوری صلاحیت موجود تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس فلم ساز کو کبھی ایک نہایت مؤثر کردار اور دل چسپ فلمی کائنات تخلیق کرنے پر سراہا گیا تھا، وہی اب لطیفوں اور سوشل میڈیا کی طنزیہ مہم کا موضوع بن گیا۔
لیکن اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ فلم اپنے گردوپیش میں کہیں کہیں لڑکھڑاتی ضرور ہے، مگر اسی فلم میں جیتو جوزف نے جارج کُٹی کے ذریعے ہندوستانی سنیما میں کردار نگاری اور انسانی نفسیات کا ایک نہایت دل چسپ مطالعہ بھی پیش کردیا ہے۔
اب ہندی "دریشیم 3" کی طرف آتے ہیں۔
سب سے پہلے ایک بات واضح ہوجانی چاہیے: ہندی دریشیم 3 اپنے ملیالم ہم منصب سے یکسر مختلف فلم ہے۔ یہ ایک بالکل دوسری راہ اختیار کرتی ہے اور بڑی حد تک اپنی ایک الگ اور نئی کہانی سناتی ہے۔
دونوں فلموں میں جو سب سے نمایاں فرق مجھے محسوس ہوا، وہ یہ ہے کہ جارج کُٹی کے ہندی ہم منصب، وجے سالگاؤنکر، کو کبھی وہ کردار ی گہرائی اور ارتقائی سفر نصیب نہیں ہوتا جو ملیالم فلموں میں جارج کُٹی کا امتیاز ہے۔ دوسرا بڑا فرق فلم کے مجموعی مزاج اور فضا کا ہے، اور یہ تبدیلی دریشیم 2 کے ہندی نسخے ہی سے نمایاں ہوگئی تھی۔ ملیالم فلم میں جارج کُٹی اور اس کا خاندان اب بھی اپنے ہاتھوں سرزد ہونے والی موت کے نتائج کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے۔ احساسِ جرم، خوف اور ذہنی صدمہ رفتہ رفتہ انہیں اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے۔ اس کے برخلاف ہندی فلم میں یوں محسوس ہوا جیسے خاندان اس سانحے کو نسبتاً آسانی سے پیچھے چھوڑ چکا ہو، جب کہ وجے سالگاؤنکر کی شخصیت کو زیادہ واضح طور پر ایک ہیرو کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہے۔
ہندی دریشیم 3 تقریباً وہیں سے آگے بڑھتی ہے جہاں دریشیم 2 ختم ہوئی تھی۔ اس کے واقعات دوسری فلم کے اختتام کے تقریباً چھ ماہ بعد رونما ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک مستقل تیسری فلم سے زیادہ دریشیم 2 کی توسیع معلوم ہوتی ہے - یا زیادہ درست الفاظ میں کہیں تو مخالف کرداروں کے نقطۂ نظر سے بیان کی گئی ایک ذیلی کہانی۔ اور میرے نزدیک یہی اس فلم کا سب سے تازہ اور دل چسپ تصور ہے۔
اس سلسلۂ فلم میں پہلی مرتبہ ہمیں کہانی کا بڑا حصہ مخالف فریق کی نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دریشیم 2 اپنے پیچھے کئی سوالات اور منطقی الجھنیں چھوڑ گئی تھی - ایسے سوالات جو فلم دیکھنے کے بعد فطری طور پر ذہن میں ابھرتے ہیں۔ ہندی دریشیم 3 میں ان میں سے بہت سے سوالات کا جواب دینے، یا کم از کم انہیں سنجیدگی سے موضوع بنانے، کی خاصی کوشش کی گئی ہے۔
ایک سنسنی خیز فلم کی حیثیت سے ہندی دریشیم 3 تیز رفتار، دل چسپ اور ناظر کو باندھے رکھنے والی فلم ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی زاویۂ نظر کی یہی تبدیلی ہے، یعنی انہی واقعات کو دوسری جانب کھڑے لوگوں کی نگاہ سے دیکھنا۔ البتہ وجے اور اس کے خاندان کی بات آئے تو کردار نگاری بدستور سطحی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کسی گہرے داخلی ارتقا کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے فلم کی اصل دلچسپی شاید اس بات میں ہے کہ وجے کو اس سلسلۂ فلم کے اختتام پر ایک فاتح ہیرو کے طور پر رخصت کیا جائے - کم از کم فی الحال۔ یعنی یہ وہی دریشیم نہیں، وہی کہانی نہیں، وہی جذباتی سفر بھی نہیں؛ لیکن ایک مختلف اور اپنی جگہ دل چسپ راستہ ضرور ہے۔
دونوں میں سے بہتر کون سی؟ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ان دونوں میں مجھے کون سی فلم زیادہ پسند آئی تو اس کا جواب محض ایک لفظ میں دینا ممکن نہیں۔ تمام خامیوں کے باوجود ملیالم دریشیم 3 مجھے بے حد پسند ہے، اور اس کی بنیادی وجہ جارج کُٹی کے پیچیدہ کردار کا وہ گہرا مطالعہ ہے جو یہ فلم ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ کسی کردار کی ایسی تہہ دار اور بتدریج تبدیلی ہندوستانی سنیما میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسے مزید غیر معمولی بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں۔ جیتو جوزف نے اس کردار کی تشکیل میں جس قدر غوروفکر اور تخلیقی محنت صرف کی؛ موہن لال جیسے بلند پایہ اداکار نے اسے جس غیر معمولی تاثیر سے نبھایا؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موہن لال نے اپنی "سپر اسٹار" شبیہ کی حفاظت کی فکر کیے بغیر جارج کُٹی کو اس تاریک منزل تک لے جانے کی جس جرأت کا مظاہرہ کیا - یہ سب مل کر اس کردار کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ واقعی ایک نہایت جرات مندانہ فیصلہ تھا۔
دوسری طرف ہندی دریشیم 3 مجھے بالکل مختلف وجوہ سے پسند آئی۔ یہ بھرپور تجارتی انداز کی ایک تیز رفتار، سنسنی خیز اور ناظر کو مسلسل گرفت میں رکھنے والی فلم ہے۔ اس نے واقعی مجھے سنسنی کا احساس دلایا۔ اس کے موڑ چونکاتے ہیں، بعض لمحات بدن میں جھرجھری دوڑا دیتے ہیں اور فلم دیکھتے ہوئے میری دلچسپی کہیں کم نہیں ہوئی۔ لیکن سنیما ہال سے باہر نکلتے ہی میرا ردِعمل کچھ یوں تھا: "اچھا، تو بس یہی تھا۔ ٹھیک ہے۔ اچھا ہے۔ خوش گوار انجام۔"
ملیالم دریشیم 3 مجھے اس کیفیت میں چھوڑ کر نہیں گئی۔
جارج کُٹی کی کہانی سے پیدا ہونے والے جذبات میرے ساتھ باہر تک آئے۔ سنیما ہال سے نکلتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی خیال تھا: "کیا عبرت ناک زندگی ہے!"
اور یہ بات میں فلم کی تنقید کے طور پر نہیں کہہ رہا۔ دراصل یہی اس فلم کی اصل طاقت ہے۔ وہ اپنے پیچھے سوالات چھوڑتی ہے، سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور آخری منظر کے بعد بھی دیر تک ذہن کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہندی دریشیم 3 فی الحال اس سلسلۂ فلم کا اختتام محسوس ہوتی ہے۔ لیکن بالی ووڈ کے مزاج اور باکس آفس پر فلم کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اگر مستقبل میں دریشیم 4 بھی سامنے آجائے تو مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوگی۔ ملیالم نسخے کے بارے میں، البتہ، میری خواہش یہی تھی کہ اسے دریشیم 3 پر ختم کردیا جاتا۔ میرے نزدیک جارج کُٹی کی کہانی کے لیے یہی ایک مکمل اور بہترین اختتام تھا۔ جس چیز سے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے اس نے پوری زندگی جدوجہد کی، آخرکار جارج کُٹی خود اسی چیز میں تبدیل ہوگیا۔ ایک ہیرو کا رفتہ رفتہ ایک عفریت بن جانا - اس کے سفر کا یہ انجام نہایت خوب صورت المیے کی صورت رکھتا تھا؛ ایک ایسا المیہ جس میں شیکسپیئر کے ڈراموں کی سی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے دریشیم 4 بنانے کا فیصلہ کیا، جو میرے نزدیک سراسر غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔
تو پھر آخر دونوں میں سے مجھے کون سی زیادہ پسند آئی؟
ملیالم دریشیم 3۔ ہمیشہ۔
جارج کُٹی کے لیے۔
تحریر کی اس بے باکی کے لیے۔
موہن لال کی اداکاری کے لیے۔
اور یقیناً جیتو جوزف کے لیے۔
شکریہ جیتو جوزف۔ شکریہ موہن لال۔ اور شکریہ جارج کُٹی۔
فلم تبصرہ از: اسٹینلی سوسن اسٹیفن
بہ شکریہ: My thoughts: Stanley Susan Stephen
Drishyam 3 Malayalam vs Hindi Review: Georgekutty, Vijay Salgaonkar and Two Different Endings



No comments:
Post a Comment