"دلیپ کمار کی شادی پر مدھوبالا اداس ہوگئی تھیں" - مدھر بھوشن
وہ چودہ فروری کو پیدا ہوئی تھیں، محبت کے نام سے منسوب دن، جب دل اور دل کی باتوں کا جشن منایا جاتا ہے۔ مگر اسی دل کی خرابی نے سپراسٹار مدھوبالا کی زندگی مختصر کر دی۔
ان کی بہن مدھر بھوشن سوال کرتی ہیں: "ستائیس برس کی لڑکی سے کہہ دیا جائے کہ اب اس کے پاس جینے کے لیے صرف دو سال ہیں، تو اس پر کیا گزرے گی؟" پھر کیا عجب کہ زندگی کے آخری برسوں میں مدھوبالا بار بار فلم "جیول تھیف" کا گیت "رُلا کے گیا سپنا میرا" سنا کرتی تھیں۔ خوابوں کی شہزادی کے اپنے خواب ادھورے رہ گئے۔ ان کی سب سے چھوٹی بہن مدھر، ہندی سنیما کی اس حسن کی دیوی کے عروج اور پھر بتدریج بجھتی ہوئی زندگی کو یاد کرتی ہیں، جو صرف چھتیس برس جی کر ہمیشہ کے لیے آسمانِ فلم کا ستارہ بن گئیں۔
وہ آپا، جنہیں میں جانتی تھی
"میرے بچپن کا بیشتر زمانہ ایسا گزرا کہ آپا شوٹنگ میں مصروف رہتی تھیں۔" مدھر، مدھوبالا یعنی ممتاز جہاں بیگم دہلوی کو آپا کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ "ہمارا تعلق پٹھانوں کے ایک قدامت پسند مسلمان گھرانے سے تھا۔ ابا، عطاء اللہ خان، ہماری تعلیم کے زیادہ قائل نہیں تھے۔ خوش قسمتی سے مجھے باندرہ کے سینٹ جوزف کانونٹ میں بھیج دیا گیا۔
"ہاں، گھر میں کمانے والی صرف آپا تھیں۔ ابا پشاور میں انگریزوں کی امپیریل ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ پٹھان تھے، مزاج میں تیزی بھی تھی اور خودداری بھی۔ کسی کا ناروا سلوک برداشت نہ کرسکے اور پل بھر میں پندرہ برس کی ملازمت جاتی رہی۔ تب وہ ہم سب کو لے کر بمبئی آگئے۔ آپا صرف سات برس کی تھیں، مگر ان میں صلاحیت تھی، گاتی بھی تھیں اور ناچ بھی لیتی تھیں۔ یوں انہوں نے بچوں کی اداکارہ کی حیثیت سے اپنی پہلی فلم "بسنت" میں کام کیا۔ آخر تک گھر کی کفالت انہی نے کی۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، انہی کی بدولت ہیں۔
"ابا نظم و ضبط کے سخت پابند تھے۔ آپا کی شوٹنگ صبح نو بجے شروع ہونی ہوتی تھی۔ شام چھ بجے گاڑی اسٹوڈیو بھیج دی جاتی اور انہیں گھر لے آیا جاتا۔ ابا خود کبھی اسٹوڈیو نہیں جاتے تھے۔
"لوگ انہیں جتنا سخت گیر سمجھتے ہیں، وہ ایسے نہیں تھے۔ وہ اصول کے پابند تھے اور وقت کی پابندی پر اصرار کرتے تھے۔ یہی عادت آپا نے بھی ان سے سیکھی تھی۔ ایک بار رنجیت اسٹوڈیو میں ان کی شوٹنگ تھی، مگر موسلادھار بارش ہورہی تھی۔ ابا نے کہا، 'آپ کو جانا چاہیے، آپ کی ساکھ خراب نہیں ہونی چاہیے۔' ان دنوں باندرہ میں ہمارے گھر سے رنجیت اسٹوڈیو کا راستہ گاڑی سے پندرہ منٹ کا تھا، مگر اس روز آپا کو پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ وہاں پہنچیں تو پھاٹک بند تھے۔ کوئی آیا ہی نہیں تھا۔ آدھا گھنٹہ انتظار کرکے واپس آگئیں۔
"ان کی خوبصورتی کے بارے میں کیا کہوں؟ ان کے انتقال کے بیالیس برس بعد بھی ان کا ذکر ہونا ہی کافی ثبوت ہے۔ ہم ان کے برابر کھڑی ہوتیں تو احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتیں۔ پٹھان ہونے کے ناتے ہم سب درازقد، گوری رنگت اور لمبے بالوں والی تھیں، مگر ہم بہنوں میں سے کوئی بھی ان جیسی نہیں تھی۔ امی کا قد چھوٹا تھا۔ ہم ابا پر گئی تھیں، لیکن آپا کے حسن کو چھو بھی نہیں سکتی تھیں۔
"انہیں سادہ سفید ساڑیاں پہننا پسند تھا۔ گھر میں میکسی پہنتی تھیں۔ بالوں میں موگرے کے پھول لگانے کا شوق تھا۔ سونے اور کندن کے زیورات پسند کرتی تھیں۔ شعر و شاعری سے بھی دل چسپی تھی، کیونکہ کچھ اردو جانتی تھیں۔ انگریزی پڑھانے کے لیے بھی ایک استاد گھر آتے تھے۔
"کھانے میں چاٹ بہت پسند تھی، رگڑا پیٹِس، پانی پوری اور قلفی۔ انہوں نے کبھی کھانا کم کرکے وزن گھٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ان دنوں اداکارائیں بھری پُری ہوا کرتی تھیں، آج کی طرح انتہائی دبلی پتلی نہیں!
"ان کے پاس ہلمین، بیوک اور اسٹیشن ویگن جیسی درآمد شدہ گاڑیاں تھیں۔ وہ خود گاڑی چلا کر ہم سب کو چوپاٹی لے جاتیں، البتہ پہچان چھپانے کے لیے برقع پہن لیتی تھیں۔ ٹریفک پولیس اس پر روکتی تو درخواست کرتیں، 'مجھے اسے پہنے رہنے دیجیے، ورنہ لوگوں کا ہجوم لگ جائے گا۔' فلم دیکھنے بھی برقع پہن کر جاتی تھیں۔
"آپا کے لیے لوگوں کی دیوانگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ عوامی محفلوں میں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ انہیں کسی تقریب یا فلم کے افتتاحی شو میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کی کوئی سہیلی بھی نہیں تھی۔ مگر انہوں نے کبھی مزاحمت نہیں کی۔ وہ فرماں بردار تھیں۔ ابا ان کی حفاظت کے معاملے میں بہت محتاط تھے، لیکن اسی وجہ سے مشہور ہوگیا کہ وہ ان پر حکم چلاتے ہیں۔ لوگ پوچھتے کہ پھر آپ نے انہیں فلموں میں آنے ہی کیوں دیا؟ وہ کہتے، 'میرے بارہ بچے تھے۔ ہم بھوکے مرجاتے۔ میرے وہ بیٹے بھی دنیا سے چلے گئے جو میرا سہارا بن سکتے تھے۔'
"آپا بہت جذباتی تھیں۔ پل بھر میں آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور ہم سوچتے رہ جاتے کہ آخر ہوا کیا ہے۔ اسی طرح ہنستی بھی بہت جلد تھیں۔ ایک بار ہنسی شروع ہوجاتی تو پھر رکنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ نوبت یہاں تک آجاتی کہ اس دن کی شوٹنگ منسوخ کرنا پڑتی! وہ مذہبی معمولات کی بہت پابند نہیں تھیں، مگر خدا کا خوف رکھتی تھیں۔ روزے نہیں رکھتی تھیں، البتہ دن میں ایک وقت نماز پڑھتی تھیں۔"
محبت اور جدائی
"آپا کو پہلی محبت پریم ناتھ سے ہوئی تھی۔ یہ تعلق چھ ماہ رہا۔ مذہب کے مسئلے پر ختم ہوگیا۔ انہوں نے آپا سے مذہب تبدیل کرنے کو کہا، مگر آپا نے انکار کردیا۔
"اس کے بعد ان کی زندگی میں دلیپ کمار آئے۔ بھائی جان سے ان کی ملاقات فلم "ترانہ" کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ بعد میں دونوں نے "سنگ دل"، "امر" اور "مغلِ اعظم" میں ساتھ کام کیا۔ ان کی محبت نو برس تک رہی۔ منگنی بھی ہوگئی تھی۔ رسم کے مطابق ان کی آپا چنری لے کر آئی تھیں۔
"بھائی جان بھی پٹھان تھے۔ جو کچھ مشہور ہے، اس کے برخلاف ابا نے کبھی آپا کو شادی سے نہیں روکا۔ تب تک ہمارے پاس کافی پیسہ آچکا تھا اور ہمیں مالی پریشانی نہیں رہی تھی۔ آپا اور بھائی جان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ دونوں ایک دوسرے ہی کے لیے بنے ہیں۔ وہ اکثر ہمارے گھر آتے تھے۔ انہوں نے تو مجھے اسکول کے یونیفارم میں بھی دیکھا ہے۔ ہم بچوں سے بھی احترام سے بات کرتے اور 'آپ' کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ دونوں کبھی گاڑی میں گھومنے نکل جاتے، کبھی کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے۔
"دلیپ کمار سے تعلق ٹوٹنے کا سبب پچاس کی دہائی کے وسط میں فلم "نیا دور" کے دوران ہونے والا عدالتی مقدمہ بنا۔ فلم کی ٹیم کو گوالیار کے آس پاس کسی مقام پر شوٹنگ کے لیے جانا تھا۔ اسی جگہ پہلے ایک اور فلم کی شوٹنگ کے دوران، جس میں جبین جلیل کام کررہی تھیں، ہجوم نے عورتوں پر حملہ کیا تھا، یہاں تک کہ ان کے کپڑے پھاڑ دیے تھے۔ ابا اس وجہ سے فکرمند تھے۔ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ شوٹنگ کی جگہ بدل دی جائے۔
"یہ بات نہیں تھی کہ وہ آپا کو بیرونِ شہر شوٹنگ پر جانے نہیں دیتے تھے۔ آپا اس سے پہلے مہابلیشور، حیدرآباد اور دوسری جگہوں پر شوٹنگ کرچکی تھیں۔ مگر بھائی جان نے عدالت میں ابا کو 'آمر' کہا اور چوپڑا خاندان کا ساتھ دیا۔" آنجہانی بی آر چوپڑا فلم کے ہدایت کار تھے۔ "بس، دراڑیں پڑگئیں، رشتے ٹوٹ گئے۔
"ہم بھائی جان سے محبت بھی کرتے ہیں اور ان کی عزت بھی، مگر میرا ان سے صرف ایک سوال ہے: 'آپ کی محبت یہاں تھی، آپ کی چاہت یہاں تھی، پھر آپ نے ایسا کیوں کیا؟' وہ بس اتنا کہہ سکتے تھے کہ شوٹنگ کی جگہ بدل لیتے ہیں۔ یا پھر غیرجانب دار رہتے۔
"ان دنوں آپا بہت روتی تھیں۔ دونوں فون پر بات کرتے اور تعلق سنبھالنے کی کوشش ہوتی۔ وہ بار بار کہتے، 'اپنے والد کو چھوڑ دیجیے، میں آپ سے شادی کرلوں گا۔' آپا کہتیں، 'میں آپ سے شادی کرلوں گی، بس آپ گھر آکر ابا سے معافی مانگ لیجیے اور انہیں گلے لگا لیجیے۔' ضد نے ان کی محبت برباد کردی۔ مگر ابا نے کبھی آپا سے منگنی توڑنے کو نہیں کہا، نہ کبھی خود ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔"
زندگی کے آخری برس
"اس محبت میں دل ٹوٹنے کے بعد آپا کشور کمار کے قریب ہوگئیں۔ اس وقت کشور کی اپنی اہلیہ، اداکارہ اور گلوکارہ روما دیوی گوہا ٹھاکرتا سے طلاق کی کارروائی چل رہی تھی۔ آپا کو کشور کی کس بات نے متوجہ کیا؟ شاید ان کی گائیکی نے، یا شاید اس بات نے کہ وہ انہیں ہنسا لیتے تھے۔
"فلموں "چلتی کا نام گاڑی" اور "ہاف ٹکٹ" کے زمانے میں ان کی محبت پروان چڑھتی رہی۔ یہ تعلق تین برس جاری رہا۔ انیس سو ساٹھ میں دونوں نے شادی کرلی۔ تب آپا ستائیس برس کی تھیں۔ شادی کے بعد وہ لندن گئے، جہاں ڈاکٹر نے آپا کو بتایا کہ ان کے پاس جینے کے لیے صرف دو سال رہ گئے ہیں۔
"اس کے بعد کشور انہیں ہمارے گھر چھوڑ گئے۔ کہنے لگے، 'میں ان کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا۔ مجھے اکثر بیرونِ شہر شوٹنگ پر رہنا پڑتا ہے۔' مگر آپا ان کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔ وہ دو ماہ میں ایک بار ان سے ملنے آجاتے تھے۔ شاید وہ خود کو ان سے الگ کرنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ آخری جدائی کا صدمہ کم ہو۔ مگر انہوں نے کبھی آپا سے بدسلوکی نہیں کی، جیسا کہ بعض خبروں میں کہا گیا۔ علاج کے اخراجات بھی وہی اٹھاتے تھے۔ دونوں کا ازدواجی رشتہ نو برس قائم رہا۔
"آپا کے دل میں سوراخ کا پتا انیس سو چوّن میں مدراس میں ایس ایس واسن کی فلم "چالاک" کی شوٹنگ کے دوران چلا تھا۔ یہ دل کے نچلے دو خانوں کے درمیان پردے میں سوراخ تھا۔ انہیں خون کی قے ہوئی تھی۔ تین ماہ بستر پر آرام کا مشورہ دیا گیا، مگر وہ کام کرتی رہیں، کیونکہ ان کی فلموں کا نقصان ہوتا۔
"مغلِ اعظم" کی شوٹنگ میں انہیں زنجیریں پہن کر چلنا پھرنا پڑتا تھا۔ یہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ دن ختم ہوتے ہوتے ہاتھ نیلے پڑجاتے۔ وہ کھانا کھانے سے بھی انکار کردیتیں کہ قیدخانے کے مناظر میں انہیں نڈھال اور رنج و الم کی ماری دکھائی دینا ہے۔ آپا اور بھائی جان کا وہ منظر، جس میں پَر استعمال ہوا ہے اور جسے ہندی سنیما کے سب سے رومانوی مناظر میں شمار کیا جاتا ہے، ان دونوں کے تعلق ٹوٹنے کے بعد فلمایا گیا تھا۔
"بیماری کی وجہ سے ان کے جسم میں ضرورت سے زیادہ خون بننے لگا تھا۔ وہ ناک اور منہ سے بہہ نکلتا۔ ڈاکٹر گھر آکر بوتلوں کے حساب سے خون نکالتے تھے۔ پھیپھڑوں میں خون کے دباؤ کا عارضہ بھی تھا۔ مسلسل کھانستی رہتیں۔ ہر چار پانچ گھنٹے بعد آکسیجن دینا پڑتی، ورنہ سانس پھولنے لگتا۔
"نو برس بستر سے لگی رہیں۔ جسم پر بس کھال اور ہڈیاں رہ گئی تھیں۔ روتے ہوئے بار بار کہتیں، 'مجھے زندہ رہنا ہے، مجھے مرنا نہیں ہے۔ ڈاکٹر کب علاج نکالیں گے؟'
"ان کے آخری دنوں میں مجھے چکن پاکس ہوگیا تھا، اس لیے مجھ سے کہا گیا تھا کہ ان سے دور رہوں۔ لیکن جب ڈاکٹر نے کہا کہ ان کی حالت ڈوب رہی ہے، تو میں بھاگ کر اوپر ان کے پاس گئی۔ مگر وہ جاچکی تھیں۔" مدھوبالا نے تئیس فروری، انیس سو انہتر کو وفات پائی۔ "وہ صرف چھتیس برس کی تھیں اور میں انیس برس کی۔
"بیماری کے دوران بھائی جان کبھی ان سے ملنے نہیں آئے، لیکن آخری دیدار کے لیے مدراس سے ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچے اور قبرستان آئے۔ رسم کے مطابق تین دن تک ان کے گھر سے ہمارے ہاں کھانا آتا رہا۔
"مجھے یاد ہے، جب بھائی جان نے سائرہ بانو سے شادی کی تو آپا اداس ہوگئی تھیں، کیونکہ وہ ان سے محبت کرتی تھیں۔ کہتی تھیں، 'ان کے نصیب میں وہ تھیں، میں نہیں۔' لیکن یہ بھی کہتیں، 'انہوں نے بہت خوبصورت لڑکی سے شادی کی ہے۔ وہ ان کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ میں ان کے لیے بہت خوش ہوں۔' پھر بھی ان کے دل کا ایک گوشہ خالی رہ گیا تھا۔
"چند برس پہلے ان کی قبر کا پختہ نشان بھی مسمار کردیا گیا، کیونکہ وہ وہابیوں کے قبرستان میں تھی، جہاں قبروں پر تعمیر کی اجازت نہیں۔ انہوں نے ایک عظیم فنکارہ کی آخری یادگار بھی مٹا دی۔"
مضمون از: فرحانہ فاروق
بہ شکریہ: "Madhubala was sad when Dilip Kumar got married" - Madhur Bhushan
Madhubala's Love for Dilip Kumar, Marriage to Kishore Kumar and Final Years: Madhur Bhushan Recalls



No comments:
Post a Comment