"نوجوانوں کو جیل بھیجنے کے بجائے انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے"
"ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دَم نہیں: ہم سے زمانہ خود ہے، زمانے سے ہم نہیں"
"پروفیسر حکم لیتا نہیں، دیتا ہے"
اپنے دور میں فلم "بلندی" کے بالا مشہور و مقبول مکالمے فلم کے مرکزی کردار پروفیسر ستیش کھرانہ نے ادا کیے تھے اور ظاہر ہے اُس زمانے میں، موثر ڈائیلاگ ڈیلیوری کے فن پر عبور رکھنے والوں میں "راج کمار" معروف تھے۔ اٹھاسی کی دہائی کے وسط میں غیر روایتی فلموں کی اصناف میں 'اسٹوڈنٹ فلم' یعنی طلبہ پر مبنی کہانیاں سب سے موزوں و مقبول ثابت ہوئی تھیں۔ گوکہ اس دہائی سے کچھ عرصہ قبل کی ایک اور یادگار فلم ونود کھنہ کی 'امتحان' (1974) بھی ہے، جس میں استاد اور شاگرد کے تعلق کو ایک سنجیدہ اور جذباتی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اور غالباً فلم 'میرے اپنے' (ریلیز: 1971ء : میناکماری، ونود کھنہ، شتروگھن سنہا) پہلی ایسی فلم رہی جس میں طلبہ کو مرکزی کردار دیا گیا۔
بالی ووڈ کی اس زمرے کی فلموں میں استاد اور شاگرد کے رشتے کو ہمیشہ سے ایک مقدس اور باوقار مقام دیا گیا ہے۔ یہ وہ بندھن ہے جو صرف کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ زندگی بھر کے لیے فریقین کے دلوں پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 1981ء میں ریلیز ہونے والی فلم "بلندی" نے استاد اور شاگرد کے تعلق کو ایک نئے انداز میں پیش کیا، جو آج بھی دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے۔ راج کمار، ڈینی (پہلی مرتبہ ڈبل رول / باپ اور بیٹا) اور راج کرن کی متذکرہ فلم "بلندی" اسٹوڈنٹ لائف دھارے کی ایسی مسالہ ہندی فلم باور کی جاتی ہے جو ایک خاص انداز میں شروع ہو کر دوسرے رخ کی طرف بڑھتی ہے، مگر پھر بھی اپنی ہم آہنگی کو برقرار رکھتی ہے۔ ہدایت کار اسماعیل شروف کی ہدایت کاری سے سجی فلم "بلندی" 30/ جنوری 1981 کو ریلیز ہوئی تھی۔
بلندی درحقیقت مقبول عام بالی ووڈ منظرنامے کی ایسی فلم ہے جس میں آرٹ ہاؤس اور یہاں تک کہ آزاد سنیما کی جھلک بھی صاف نظر آتی ہے۔ فلم ایک ساتھ کئی موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ یہ ایک طالب علم کی فلم ہے۔ یہ ایک سیدھے سادے انسان کی کہانی ہے جو جانتا ہے کہ نظام میں خامیاں ہو سکتی ہیں مگر اس نے بہرحال سدھار کی امید نہیں کھوئی ہے۔ یہ ان باپوں کی کہانی ہے جو اپنے بیٹوں کو حد سے زیادہ بگاڑ دیتے ہیں۔ یہ ان بچوں کی کہانی ہے جو جانتے ہیں کہ وہ جو بھی کریں، اپنے والدین کی قربانیوں کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے۔ فلم کی کہانی ایک ایسی پزل کی مانند ہے جس کے ٹکڑے جوڑنے سے پوری تصویر سامنے آتی ہے۔ بیانیے میں دلچسپ مناظر ہیں اور کچھ بہترین لمحات ہیں جو اسے دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔
فلم کی کہانی کا مرکز پروفیسر ستیش کھرانہ ہیں، جو ایک ایماندار اور باضمیر استاد کے طور پر اپنے کالج میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہ کردار ادا کرنے والے راج کمار کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ وہ اس طرز کے باوقار کرداروں کے لیے ایک مثالی نمونہ مانے جاتے تھے۔ کہانی میں ایک دلچسپ موڑ تب آتا ہے جب چند مجرم قسم کی بااختیار سماجی شخصیات اپنے بگڑے ہوئے بیٹوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے پروفیسر کھرانہ کی مدد لیتے ہیں۔ یہاں فلم کا بنیادی پیغام سامنے آتا ہے کہ ایک اچھا استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا، بلکہ زندگی جینے کا صحیح طریقہ بھی سکھاتا ہے۔
فلم میں تین نوجوانوں کے ایسے کردار ڈینی (منجیت)، راج کرن (وکرم) اور راکیش بیدی (پَوَن) نے نبھائے ہیں جو جو شروع میں ضدی، سرکش اور اپنے والد کے پیسے پر نازاں ہیں۔ لیکن پروفیسر کھرانہ کی تربیت، شفقت اور دانش مندانہ رہنمائی کے زیرِ اثر یہ تینوں نہ صرف اپنے کردار و اطوار کو سنوارتے ہیں، بلکہ زندگی کے اصل مقصد اور اس کی بہتر سمت سے بھی آشنا ہو جاتے ہیں۔ یہاں فلم نے یہ خوبصورت پیغام دیا ہے کہ ہر بچے کے اندر کچھ اچھائی پوشیدہ ہوتی ہے، بس اسے پہچاننے اور نکھارنے کے لیے ایک سمجھدار استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروفیسر کھرانہ کا یہ کہنا کہ "نوجوانوں کو جیل بھیجنے کے بجائے انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے" آج کے دور میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پینتالیس سال قبل تھا۔
"ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دَم نہیں: ہم سے ہے زمانہ، زمانے سے ہم نہیں" اور "پروفیسر حکم لیتا نہیں، دیتا ہے" جیسے یادگار مکالمے اگر راج کمار نے اپنے منفرد انداز میں ادا کیے تھے تو ڈینی کے شاعرانہ مشاہدے پر مبنی مکالمے : "بادلوں اور انسان کی سانسوں کا کیا بھروسہ۔۔۔ بادل کبھی بھی برس سکتے ہیں، سانس کبھی بھی ٹوٹ سکتی ہے" نے بھی سینما ہال میں ناظرین کی خوب تالیاں سمیٹی تھیں۔
ان مکالموں میں صرف الفاظ کی چمک نہیں ہے، بلکہ ایک استاد کی خودداری، عزتِ نفس اور اپنے پیشے پر فخر کا جذبہ بھی ہے۔ راج کمار کی آواز میں یہ جملے جب ادا ہوتے ہیں تو سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ طاقت ہے جو ایک اچھے استاد کی شخصیت میں ہوتی ہے اور فلم نے اسے بخوبی اجاگر کیا ہے۔ آج کے دور میں جب تعلیم کا نظام زیادہ تر کاروبار بنتا جا رہا ہے، استاد اور شاگرد کا وہ پرانا، پاکیزہ رشتہ کہیں کھوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں "بلندی" جیسی فلمیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک سچے استاد کی قدر کیا ہوتی ہے۔ یہ فلم صرف تفریح نہیں ہے، بلکہ ایک سبق ہے جو ہر والد، ہر استاد اور ہر نوجوان کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یوں تقریباً نصف صدی گزر جانے کے باوجود یہ فلم آج بھی اتنی ہی تازہ اور متعلقہ محسوس ہوتی ہے۔
کیونکہ ۔۔۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ کبھی پرانا نہیں ہوتا!!
فلم تبصرہ از: مکرم نیاز
Bulundi (1981) Film Review: Raj Kumar, Student Reform and the Teacher-Student Bond. Reviewer:Mukarram Niyaz.



No comments:
Post a Comment