دلیپ کمار - بمبئی کے شیرف کی حیثیت سے یادگار تجربات - Musafir | Bollywood Entertainment | Best Songs & Articles Urdu Script

2019/12/11

دلیپ کمار - بمبئی کے شیرف کی حیثیت سے یادگار تجربات

dilip-kumar_bombay-sheriff

محمد یوسف خان المعروف دلیپ کمار (پیدائش: 11/دسمبر 1922، پشاور)
بالی ووڈ فلمی صنعت کے افسانوی اداکار کی آج بدھ 11/دسمبر 2019 کو 97 ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ان کا ایک پرانا انٹرویو پیش خدمت ہے، جو ماہنامہ "شمع" (اکتوبر-1981) کے شمارہ میں شائع ہوا تھا اور جس میں انہوں نے بمبئی کے شیرف کی حیثیت سے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت مہارشٹرا نے انہیں "شیرف آف بمبئی" کے عہدہ پر 1980 تا 1981 فائز کیا تھا۔

سوال:
بطور شیرف آف بمبئی آپ کا تجربہ کیسا رہا؟ آپ نے کیا کارنامے انجام دئے؟
جواب:
تجربہ بہت اچھا اور معلوماتی رہا۔ بلکہ ایک طرح سے بہت Rewarding تھا۔ زندگی کے بہت سے شعبوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اندھوں، معذوروں، ضرورت مندوں، مصیبت زدہ لوگوں کے لیے کام کیا جس سے دل کو سکون ملا۔ فلاحی اور سماجی بہبود کے اداروں لائنز کلب، روٹری کلب، جے۔سیز کے ممبران کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جہاں سوسائٹی کے متمول لوگ عوام کی بےلوث خدمت کرتے ہیں۔ نیشنل اسکول آف بلائنڈز (اندھوں کی بہبود کا قومی ادارہ) کے لیے میں نے کام کیا اور اس ادارہ کا رکن بھی بنا۔ چار بیوائیں ہیں جو کبھی سرکاری افسر تھیں، ان کے پاس جو اثاثہ تھا، وہ اکٹھا کیا اور پھر انہوں نے اپنے اپنے فلیٹ بیچ کر ایک مشترکہ فلیٹ میں رہنا شروع کر دیا ہے اور اپنی ساری پونجی سے غریب اور پچھڑے طبقے کے بچوں کے لیے اسکول بنایا ہے جہاں ان بچوں کے لیے مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ کھانا، کپڑا، دودھ، پھل، سب کچھ مفت دیا جاتا ہے۔ اس اسکول میں 600 بچے پڑھتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ مجھے کام کرنے کا اعزاز ملا۔ یہی میرا انعام ہے کہ غیرسرکاری اداروں کی حتی الامکان مدد کر سکا۔
شیرف کی حیثیت سے مجھے سرکاری تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا۔ کسی ملک کا صدر اور سربراہ مملکت یا وزیراعظم وہاں آئیں تو ان کا استقبال بھی شامل تھا۔ لیکن لازمی نہیں ہے کہ آپ ان کے استقبال کے لیے ضرور جائیں۔

سوال:
آپ اپنے دور میں کس کس کے استقبال کے لیے گئے؟
جواب:
چار پانچ مرتبہ ہوائی اڈے گیا۔ ایک بار وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی باہر سے آئی تھیں۔ پھر فرانس کے صدر بمبئی آئے تھے، ایک بار صدر شری سنجیوا ریڈی آئے، پھر نائب صدر شری ہدایت اللہ بمبئی آئے۔ میں ان ہی مواقع پر ائرپورٹ گیا اور بطور شیرف آف بمبئی ان کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔
یہ ضرور ہے کہ میں نے جو کچھ کیا اس کی تشہیر زیادہ ہوئی۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹی۔وی کے ذریعہ لوگوں تک یہ باتیں پہنچتی رہیں کیونکہ اس بار شیرف آف بمبئی کے ساتھ ساتھ دلیپ کمار کا عکس بھی تھا اور یہی شہرت کا باعث بنا۔ حالانکہ یہ سب ادارے، یہ سب لوگ برسہا برس سے عوام کی بےلوث خدمت میں ڈٹے ہوئے ہیں مگر ان کے کارناموں کا زیادہ لوگوں کو پتا ہی نہیں۔ اب دلیپ کمار کسی افتتاح پر مدعو ہے تو کہیں تقسیم انعامات کے جلسہ میں چیف گیسٹ ہے اور دھڑا دھڑ فوٹو کھنچ رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کو سراہا جائے جو خاموشی سے اس نیک کام میں لگے ہوئے ہیں۔
میں نے بطور شیرف اپنے سال میں تقریباً چار سو تقریبات میں حصہ لیا۔ کئی بار تو دن میں چار چار پانچ پانچ جگہوں پر بھی گیا ہوں۔ ڈاکٹروں، وکیلوں، طلبا، سوشل ورکرز، غرض بےشمار قسم کے لوگوں کے سامنے بھی مجھے بولنے کا موقع ملا۔ ایک طرح وہ سال میرے لیے Educative اور Informative ثابت ہوا۔

سوال:
کیا آپ اب بھی ان سب اداروں سے وابستہ ہیں؟
جواب:
ہونا تو چاہتا ہوں، مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ ان میں سب سے اہم نیشنل اسکول آف بلائینڈ ہے جس میں پوری دلچسپی لے رہا ہوں۔ جو لوگ مجھے کسی دکان، کسی انسٹی ٹیوٹ یا کسی تجارتی ادارے کے افتتاح کے لیے بلاتے ہیں تو میں ان سے اپنی فیس لے لیتا ہوں۔ پانچ ہزار، دس ہزار جیسی بھی جگہ ہوتی ہے اور یہ سارے پیسے نیشنل اسکول آف بلائنڈ کو دے دیتا ہوں۔ وہ لوگ آج کل نابینا طالب علموں کو ان کے مضمون اور کلاس کے سبجیکٹ ریکارڈ کر کے بھیج رہے ہیں جس میں بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ نابینا طلبہ ان ریکارڈ کیے ہوئے اسباق کی بدولت یونیورسٹی میں بہت اچھی پوزیشن سے پاس ہو رہے ہیں۔ ناگپور یونیورسٹی میں قانون کے امتحان میں ایک نابینا طالب علم پوری یونیورسٹی میں اول آیا ہے۔ یہ اسباق ہر مضمون میں اور ہر زبان میں موجود ہیں۔ انہیں ماہرین تعلیم ریکارڈ کرتے ہیں اور اپنی خدمات کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ ابھی مہارشٹرا گورنمنٹ نے دو ہزار گز زمین دی ہے اور اچھی معقول رقم بھی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہمارے ملک میں نابینا لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کے لیے ابھرے ہوئے الفاظ کی کتابیں بہت تھوڑی ہیں۔ اور ہر مضمون میں مہیا نہیں ہیں، پھر مہنگی بھی بہت ہیں۔ یہ ریکارڈ کیے ہوئے کیسٹ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تیار کیے جا سکتے ہیں اور ہر مضمون اور ہر کلاس کے لیے ہر زبان میں کیسٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کیسٹ Talking books (بولتی کتابیں) کہلاتی ہیں۔

سوال:
اچھا شیرف بننے کے بعد آپ کا اگلا قدم کیا ہے؟ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مرحومہ نرگس دت کی راجیہ سبھا کی سیٹ کے لیے آپ کا، راج کپور، شانتا رام اور سنیل دت کا نام لیا جا رہا ہے اور کچھ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ یہ سیٹ آپ کو مل جائے۔ آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟
جواب:
یہ بات میں نے بھی سنی ہے اور ایک دو انگریزی کے اخبارات نے اسے شائع بھی کر دیا ہے مگر میں آپ کے ذریعے، رسالہ "شمع" کے ذریعہ یہ بتانا چاہوں گا کہ اس طرح کی نہ میری کوئی کوشش ہے، نہ میرا ایما ہے، نہ میری خواہش ہے۔ نہ میں اپنے آپ کو اس قابل سمجھتا ہوں۔

سوال:
اگر راجیہ سبھا کی اس سیٹ کے لیے آپ سے پوچھا جائے تو آپ کا کیا جواب ہوگا ۔۔۔؟
جواب:
میں پہلے بہت مودبانہ طور اس کا شکریہ ادا کروں گا۔ پھر عرض کروں گا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور نہ ہی اس کے لیے میرے پاس وقت ہے۔

سوال:
وقت کی تو الگ بات ہے، آپ کا یہ کہنا کہ میں اہل نہیں، کسرنفسی ہے۔
جواب:
وہ معاملات سیاسی ہیں بھائی۔ کھڑے ہو جائیے، ووٹ دیجیے۔ ووٹ آپ پارٹی کے خلاف دیجیے، پارٹی کے حق میں دیجیے، یہ بڑے سنجیدہ مسائل ہیں۔ فرض کر لیجیے ہم نہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں۔ کہیں بھی محسوس نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بات ہی صحیح نہیں ہو رہی ہے تو ووٹ دینا، نہ دینا سب سیاسی معاملات ہیں جن میں پڑنا نہیں چاہتا۔ شیرف کے زمانے میں پہلے ہی میرا بہت وقت چلا گیا۔ اب میں فلموں میں کام کرنا چاہتا ہوں۔ یوں بھی میں بہت کم ہی کام کرتا ہوں۔ سات آٹھ دن کام کیا اور چار پانچ دن چھٹی کی۔ سیاست میں آ جانے کے بعد تو فلموں سے بالکل ہی دور ہو جاؤں گا۔ اس لیے میں پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ راجیہ سبھا میں جانے کی نہ میری خواہش ہے، نہ ایما ہے، نہ کوشش ہے!

دلیپ کمار کے چند یادگار نغمے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔

بشکریہ: ماہنامہ "شمع" دہلی، شمارہ: اکتوبر-1981
Dilip Kumar's experience as Bombay's Sheriff.

No comments:

Post a Comment